پیغمبروں کی حالات زندکی

قرآن کے تاریخی مقامات

تاریخ اسلامی کی کتب

سرکار دو جہاں کا شجرہ مبارک

اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذریعے اللہ کے پاس سے آئے ہوئے احکام کا زبان سے اقرار اور دل سے تصدیق کرنے کا نام ایمان ہے۔

ایمان شریعت اسلامی کی ایک اہم اصطلاح ہے۔ اس کے لغوی معنی تصدیق کرنے (سچا ماننا) کوکہتے ہیں۔ ایمان کا دوسرا لغوی معنیٰ ہیں امن دینا،  اصطلاح شرع میں ایمان سے مراد سچے دل سے ان سب باتوں کی تصدیق کرنے کا نام ہے جو ضروریاتِ دیں سے ہیں۔ ایمان کا الٹ کفر ہے۔ قرآن میں ارشاد ہے

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ آمِنُواْ بِاللّهِ وَرَسُولِهِ وَالْكِتَابِ الَّذِي نَزَّلَ عَلَى رَسُولِهِ وَالْكِتَابِ الَّذِيَ أَنزَلَ مِن قَبْلُ وَمَن يَكْفُرْ بِاللّهِ وَمَلاَئِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلاَلاً بَعِيدًا

  النساء، 4 : 136

’’اے ایمان والو! تم اللہ پر اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اور اس کتاب پر جو اس نے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل فرمائی ہے اور اس کتاب پر جو اس نے (اس سے) پہلے اتاری تھی ایمان لاؤ، اور جو کوئی اللہ کا اور اس کے فرشتوں کا اور اس کی کتابوں کا اور اس کے رسولوں کا اور آخرت کے دن کا انکار کرے تو بیشک وہ دور دراز کی گمراہی میں بھٹک گیا

آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنزِلَ إِلَيْهِ مِن رَّبِّهِ وَالْمُؤْمِنُونَ كُلٌّ آمَنَ بِاللّهِ وَمَلَآئِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ

البقره، 2 : 285

’’وہ رسول اس پر ایمان لائے (یعنی اس کی تصدیق کی) جو کچھ ان پر ان کے رب کی طرف سے نازل کیا گیا اور اہل ایمان بھی، سب ہی (دل سے) اللہ پر اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے۔‘‘

ارکان ایمان

ایمان کے چھ ارکان ہیں۔ ایک حدیث میں ہے کہ جبرائیل فرشتہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جواب دیا:تم اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر، اس کے رسولوں پر، روز قیامت پر اور اچھی اور بری تقدیر پر ایمان لاؤ (صحیح مسلم)۔ نیز مرنے کے بعد دوبارہ اٹھائے جانا جیسا کہ ایمان مفصل میں ہے آمنت باللہ وملائکتہ وکتبہ ورسلہ والیوم الاآخر والقدر خیر وشرہ من اللہ اللہ تعالیٰ والبعث بعد الموت۔

ایمان کی دو حالتیں ہیں

ائمہ و محدثین نے ایمان اور ایمانیات کو قرآن و حدیث سے اخذ کر کے اس کی تعلیم کو آسان اور سادہ طریقے سے سمجھانے کے لئے نہایت خوبصورت پیرائے میں بیان کیا ہے۔ علمائے اسلام نے ایمان کی صفات کو دو طرح سے بیان کیا ہے۔

ایمان مجمل

ایمان مفصل

دین اسلام میں چھ کلمے ہیں

3-Thirsd Kalima (Tamjeed):

تیسرا کلمہ تمجید

2-Second Kalima (Shahadat):

دوسرا کلمہ شہادت

1-First Kalima (Tayyab):

پہلا کلمہ طعیب

6-Sixth Kalima (Radd-e-Kuffar):

چھٹا کلمہ رد کفار

5-Fifth Kalima (Istighfar):

پانچواں کلمہ استغفار

4-Fourth Kalima (Touheed):

چوتھا کلمہ توحید

شریعت کی رو سے غسل سے مراد پاک پانی کا تمام ظاہری بدن پر خاص طریقے سے بہانا ہے۔ قرآن حکیم میں اللہ تعالٰیٰ نے فرمایا

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ إِلَى الْمَرَافِقِ وَامْسَحُوا بِرُءُوسِكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ إِلَى الْكَعْبَيْنِ ۚ وَإِن كُنتُمْ جُنُبًا فَاطَّهَّرُوا ۚ وَإِن كُنتُم مَّرْضَىٰ أَوْ عَلَىٰ سَفَرٍ أَوْ جَاءَ أَحَدٌ مِّنكُم مِّنَ الْغَائِطِ أَوْ لَامَسْتُمُ النِّسَاءَ فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا فَامْسَحُوا بِوُجُوهِكُمْ وَأَيْدِيكُم مِّنْهُ ۚ مَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيَجْعَلَ عَلَيْكُم مِّنْ حَرَجٍ وَلَـٰكِن يُرِيدُ لِيُطَهِّرَكُمْ وَلِيُتِمَّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ‎ ​

اے ایمان والو! جب تم نماز کے لیے اٹھو تو اپنے منہ دھو لو اور ہاتھ کہنیوں تک اور اپنے سروں پر مسح کرو اور اپنے پاؤں ٹخنوں تک دھو لو اور اگر تم ناپاک ہو تو نہا لو اور اگرتم بیمار ہو یا سفر پر ہو یا کوئی تم میں سے جائے ضرور سے آیا ہو یا عورتوں کے پاس گئے ہو پھر تم پانی نہ پاؤ تو پاک مٹی سے تیمم کر لو اور اسے اپنے مونہوں او رہاتھوں پر مل لو الله تم پر تنگی کرنا نہیں چاہتا لیکن تمہیں پاک کرنا چاہتا ہے اور تاکہ اپنا احسان تم پر پورا کرے تاکہ تم شکر کرو

وضو صفائی کے ایک عمل کا نام ہے جو مسلمانوں پر نماز یا قرآن کو چھونے سے پہلے واجب ہے۔ اس میں پانی کی مدد سے منہ ہاتھ دھوئے جاتے ہیں اور مسح کیا جاتا ہے۔ مسلمانوں میں وضو کے مختلف طریقے رائج ہیں مگر کم و بیش ایک جیسے ہیں اور اس کا بنیادی مقصد جسمانی و روحانی پاکیزگی ہے۔ قرآن میں ایک آیت آیۂ وضو کے نام سے موجود ہے جس میں وضو کے طریقہ پر روشنی پڑتی ہے۔

 يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلاةِ فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ إِلَى الْمَرَافِقِ وَامْسَحُوا بِرُؤُوسِكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ إِلَى الْكَعْبَيْنِ 

ترجمہ: اے ایمان والو! جب تم نماز کے لیے کھڑے ہونے لگو تو اپنے چہرے، ہاتھ کہنیوں تک دھو لو اور اپنے سروں کا مسح کرو اور پاؤں ٹخنوں تک دھو لو۔               [ المائدة:6]

درجہ بدرجہ وضو کرنے کا طریقہ

اگر پانی موجود نہ ہو یا کسی شرعی عذر کی بنا پر پانی کے استعمال پر قدرت نہ ہو تو شریعتِ مطہرہ نے پاکی کے لیے تیمم کا طریقہ تجویز فرمایا ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے

فَلَمْ تَجِدُوْا مَآءً فَتَيَمَّمُوْا صَعِيْدًا طَيِّبًا فَامْسَحُوْا بِوُجُوْهِكُمْ وَاَيْدِيْكُمْ مِّنْهُ ﴾ ( المائدہ : 6) ﴿

ترجمہ: تم کو پانی نہ ملے تو تم پاک زمین سے تیمم کر لیا کرو یعنی اپنے چہروں اور ہاتھوں پر ہاتھ اس زمین (کی جنس) پر سے (مار کر) پھیر لیا کرو"۔

نماز

نماز اسلام کے عبادی احکام میں سے ہے جسے روزانہ پانچ بار معین اوقات میں انجام دینا واجب ہے۔ نماز اسلامی عباتوں میں پہلی عبادت ہے جو پیغمبر اکرمؐ اور آپ کے ماننے والوں پرمکہ مکرمہ میں واجب ہوئی۔ اسی طرح قرآن مجید اور دینی متون میں نماز کو بہت زیادہ اہمیت دی گئی ہے یہاں تک کہ اسے دین کا ستون اور دوسرے اعمال کے قبول ہونے کی شرط قرار دی گئی ہے۔

“نماز” فارسی زبان کا لفظ ہے جسے عربی میں “صلاۃ” کہا جاتا ہے جس کے معنی خم ہونا، پروردگار کی تعظیم اور تکریم کیلئے سر جھکانا، بندگی اور اطاعت کا اظہار کرنا ہے۔

قرآنی اصطلاح میں “صلاۃ” “ص ل و” کے مادے سے دعا کے معنی میں ہے، جس کا جمع “صَلَوات” ہے۔ “صلاۃ” بعض آیات میں دعا کے معنی میں استعمال ہوئی ہے۔ اور نماز کو صلاۃ کہنے کی وجہ بھی یہ ہے کہ جز کا نام کل کے اوپر رکھ دی گئی ہے کیونکہ دعا نماز کا جز ہے۔

نماز ایک ایسی عبادت ہے کہ کوئی بھی شریعت اس سے خالی نہیں تھی لیکن ہر شریعت میں اس کی نوعیت مختلف تھی۔ قرآن میں حضرت حضرت ابراہیم(ع)، حضرت اسماعیل و حضرت اسحاق، حضرت موسی،حضرت زکریا،حضرت عیسی،حضرت شعیباور لقمان حکیم کی نماز کا تذکرہ ملتا ہے۔ روایات میں بھی حضرت آدم اور بہت سارے دیگر انبیاء کے نماز کا تذکرہ ملتا ہے۔

قرآن کی رو سے نماز صرف انسانوں کے ساتھ مختص نہیں بلکہ زمین اور آسمان پر موجود تمام موجودات میں سے ہر ایک مخصوص نماز رکھتا ہے۔

أَ لَمْ‌ تر أَنَّ اللَّہ یسَبِّحُ لَه مَنْ فِی السَّماواتِ وَ الْأَرْضِ وَ الطَّیرُ صَافَّاتٍ کلٌّ قَدْ عَلِمَ صَلاتَه وَ تَسْبیحَه وَ اللَّہ عَلیمٌ بِما یفْعَلُونَ

ترجمہ= کیا تمہیں معلوم نہیں کہ زمین اور آسمان پر موجود ہر مخلوق اور پر پھیلائے پرندے خدا کی تسبح کرتے ہیں؟ یقینا ان میں سے ہر ایک اپنی نماز اور تسبح سے آگاہ ہیں اور خدا وندعالم تمہارے اعمال سے آگاہ ہے۔سورہ نور/۴۱

درجہ بدرجہ نماز پڑھنے کا طریقہ

مرد کی نماز

عورت کی نماز